بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر انقلاب نے گذشتہ سال بعثت کے عظیم واقعے کی معنوی شکل بندی، اس ماڈل کی تشخیص کے بعد ان کی تشریح کی۔ یہ شکل بندی کچھ یوں ہے:
ایک واقعے کی عظمت ـ ایک معاشرے کے عوام کی وسعتوں میں، ان لوگوں کی فکری نشوونما اور ـ نئی سماجی، سیاسی، ثقافتی اور معاشی نظام و ترتیب کے استحکام تک ـ اس [واقعے] کے تسلسل پر منحصر ہے۔
اس عظیم واقعے کے محرک اللہ کے پیغمبر ہیں جو عقل و ایمان کے ذریعے سے اس کو معرض وجود میں لاتے ہیں۔ یعنی وہ لوگوں کی عقل کو جگاتے ہیں اور انہیں ایمان کی یاددہانی کراتے ہیں۔
اسی بیان سے یہ کشف کیا جا جاسکتا ہے کہ عقل کا موضوع ایمان اور ایمان کا موضوع توحید ہے اور یہ دنوں لوگوں کے وجود میں ودیعت رکھے گئے ہیں۔ نبی کا کام صرف یہ ہے تمام لوگوں کو بیدار کریں، انہیں ان کے وجود میں رکھی ہوئی الہی امانت کی یاددہانی کرائیں اور یہ بیدار لوگ مل کر توحیدی نظام کو قائم اور مستحکم کر دیں۔
مادی فکر میں، "واقعہ، فکر اور عمل" کا فارمولا پایا جاتا ہے لیکن وہاں "واقعے" کا موضوع تمام لوگ نہیں بلکہ خاص افرا ہیں جو عقل کو متحرک کرنے کے بجائے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں اور ایک شور و غل سے بھرپور اور بالکل عارضی چنگاری کو جنم دیتے ہیں۔
جیسا کہ اشارہ ہؤا، واقعے کی عظمت، فکری نشوونما اور پیشرفت کی وسعت، اثرگذاری کی بقاء و تسلسل، اور ایک نئی ترتیب میں اس کے استحکام پر منحصر ہے جو سبہی لوگوں میں عقل و ایمان کو متحرک کرنے کے ساتھ تشکیل پاتی ہے۔
اسی رو سے، بعثت کا نمونہ (ماڈل) بتاتا ہے کہ جہاں بھی ہم حقیقت اور ذات باری تعالیٰ پر ایمان کو متحرک کرنے کے لئے، عقل سے استفادہ کریں گے، عظیم اور تبدیلی اور نشوونما پر منتج ہونے والا عظیم واقعے کی تخلیق ہو جاتی ہے۔ بعثت کا تسلسل یا دوام بھی اسی بیامبرانہ نمونے مضمر ہے۔
حضرت امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے پیغمبروں کی پیروی کرتے ہوئے ان ہی کی مانند اسی ماڈل کے تحت اسلامی انقلاب بپا کر دیا، جو لوگوں کی عقل و ایمان کے متحرک اور بیدار و فعال ہونے کے بموجب توحیدی ترتیب اور اسلامی نظام (اسلامی جمہوریہ) کے قیام پر منتج ہؤا۔
اب بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جدید ترتیبات کے اس دور میں بعثت کے فارمولے کا تسلسل ، عوام اور ذمہ داروں کی عقلی حیات کی بقاء و دوام پر منحصر ہے۔ اس فرمان کی روشن میں انسانی زندگی کے حقائق نیز عالم وجود کے حقائق کا ادراک ممکن ہو جاتا ہے۔
بعثت کے فارمولے کے ساتھ دشمن کی مسلط کردہ ترتیب کے مقابلے میں کھڑا ہونا ممکن ہوجاتا ہے، اور اس کا مقابلہ کرنے کی روش کا ادراک کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہی "راہنما عقل" ہم سے کہتی ہے کہ دنیا کی بڑی مالی طاقتوں پر مشتمل استعماری قوت اپنی ترتیبات مسلط کرکے تین اہم اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے:
1۔ قدرتی وسائل لوٹ لینا،
2۔ گہری جڑی والی تہذیبوں اور ثقافتوں کی بیخ کنی کرنا؛ اور
3۔ خطے کی اقوام کی قومی اور اسلامی شناخت کو بدل دینا۔
مقاومت و مزاحمت ان عزائم کا بعثت نما عقلی جواب ہے جس کا آغاز ایران سے ہؤا اور آج یہ محاذ مقاومت کے طول و عرض میں سربلندی تک پہنچ گئی ہے۔ دشمن کا عقلی مقابلہ کرنے کے لئے، بعثت کا فارمولا ہمیں سکھاتا ہے کہ "دشمن کی حقیقت کو پہچاننا چاہئے تا تاکہ کہ دشمن کی اصلیت کا بروقت اور مناسب مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ ماڈل سفارت کاری کے میدان میں بھی جاری رکھا جا سکتا ہے، الٰہی معارف و تعلیمات سے سرچشمہ لینے والی بصیرتوں کی روشنی میں "دشمن کی حقیقت کی فہم" ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ "جو کچھ دشمن کی دشمنی واقعیت سے عیاں ہے، وہ دشمن کی دشمنی کی حقیقت اور اس دشمن کی اتہاہ گہرائیوں سے تناسب نہیں رکھتی۔
ہماری عقل ہمارے لئے اس کی دشمن کی ذات اور باطن کو آشکار کر دیتی ہے، اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صرف خدائے بزرگ و برتر کی ذات بابرکات بالاترین سہارا اور قابل اعتماد ترین وجود ہے۔ عقل و حکمت کا تقاضا ہے کہ کسی صورت میں بھی دشمن سے مرعوب و متاثر نہ ہوں اور اس کو اپنی صفوں میں دراندازی کرنے یا اثر و رسوخ بڑھانے کی اجازت نہ دیں، اور اللہ کے وعدے کا عملی سہارا لیں اور مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ منظرنامے کی واقعیت میں حقائق کا عقلی طور پر سامنا کیا جائے۔
دشمن کو اہداف کو پہچاننا چاہئے، اس کی ظاہری اداکاریوں کے فریب میں نہیں آنا چاہئے اور دشمن کے ساتھ کسی بھی لین دین یا تعامل کے وقت فرض یہ ہونا چاہئے کہ "وہ ہمیں دھوکہ دے رہا ہے"، یہ ہے دشمن کے مقابلے میں بعثت کا فارمولا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: جعفر علیان نژادی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ